باقر نجفی رپورٹ سامنے آگئی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار کون، تاریخ میں کیا تبدیلی ہوئی

باقر نجفی رپورٹ سامنے آگئی، سانحہ ماڈل ٹاؤن کا ذمہ دار کون، تاریخ میں کیا تبدیلی ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق لگتا ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے پولیس ایکشن روکنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔ فائرنگ کس کے حکم پر ہوئی؟ کوئی بتانے کو تیار نہیں، رانا ثناء اللہ، طاہر القادری کو سیاسی مقاصد پورا کرنے کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ سانحہ کی تہہ تک جانے کیلئے مکمل اختیارات نہیں دیئے گئے۔ رپورٹ سے کچھ ڈیلیٹ کرنے والے خود ڈیلیٹ ہو جائیں گے۔

سانحہ-ماڈل-ٹاؤن

جسٹس باقرنجفی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن سے ایک روز پہلے یعنی 16 جون 2014 کو وزیرقانون رانا ثناء اللہ کی زیرصدارت سول سیکرٹریٹ میں اجلاس ہوا، اس دوران طاہرالقادری کا 23 جون کو لاہورسے اسلام آباد تک کا لانگ مارچ روکنے کا فیصلہ کیا گیا، اجلاس میں اس وقت کے سی سی پی او لاہور چوہدری شفیق گجر اور وزیر اعلی پنجاب کے سیکریٹری توقیرشاہ بھی شریک ہوئے

جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسان جھوٹ بول سکتا ہے، حالات نہیں، حالات بتاتے ہیں کہ پولیس والوں نے اس قتل عام میں بھرپور حصہ ڈالا۔ پولیس نے وہی کیا جس کے لیے اسے بھیجا گیا تھا۔ رانا ثناء اللہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اپنے سیاسی مقاصد پورا کرنے کے کوئی موقع نہیں دینا چاہتے تھے۔ اس رپورٹ کو پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ذمہ داری کس پر ہے۔

رپورٹ کے مطابق تمام ذمہ دار افراد ایک دوسرے کو بچانے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ یہ بات شیشے کی طرح صاف شفاف ہے کہ وزیر اعلیٰ کی طرف سے کارروائی روکنے کا حکم نہیں دیا گیا۔ عدالت کے حکم پر عمل درآمد کیا جاتا تو وزیرِ قانون کو نگرانی میں طے پانے والے آپریشن میں خون خرابا روکا جا سکتا تھا۔

رپورٹ کے مطابق وزیراعلی پنجاب نے بیان دیا کہ انہیں اس واقعے کا 17 جون کی صبح 9 بجے علم ہوا اور انہوں نے فوری طورپرآپریشن روکنے کی ہدایت کردی، اسی روز صبح 10 بجے وزیراعلیٰ نے گورنرہاؤس میں نئے چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس خواجہ امتیازکی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی وہ دن 11 بجے ماڈل ٹاؤن اپنی رہائش گاہ پہنچے، جہاں دوپہرایک بجے تک انہوں نے غیرملکی وفد سے ملاقات کی، رپورٹ کے مطابق اس دوران شہبازشریف نے دوبارہ ماڈل ٹاؤن کی صورتحال سے متعلق کسی سے کوئی رپورٹ نہیں مانگی۔

رپورٹ کے مطابق 16 اور17 جون کی درمیانی رات ادارہ منہاج القرآن کے اردگرد صورتحال کشیدہ رہی، عوامی تحریک کے کارکنوں کی طرف سے پتھراؤ کے نتیجے میں کئی پولیس اہل کار زخمی ہوگئے، 17 جون کی صبح 9 بجے ڈی آئی جی آپریشنز موقع پرپہنچے دن 11 بجے ایلیٹ فورس کو بھی طلب کرلیا، دوپہر12 بجے فائرنگ سےجاں بحق ہونے والوں کی لاشوں اور زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا پولیس کے مطابق آپریشن میں 9 افراد جاں بحق اور 54 زخمی ہوئے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ   ٹریبونل اپنے رجسٹرار سمیت منہاج القران گیا اور 45 منٹ تک ڈیٹا کا معائنہ کیا۔ رانا ثناء اللہ، ڈاکٹر توقیر شاہ اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے فون کا ڈیٹا آئی ایس آئی نے مہیا کیا۔ سپیشل برانچ، آئی بی اور آئی ایس آئی نے اپنے الگ الگ رپورٹ کمیشن کو دی۔

رپورٹ کے مطابق 16 جون 2014ء کی میٹنگ میں رانا ثناء اللہ نے سختی سے کہا کہ طاہر القادری کو اپنی لانگ مارچ کے مقاصد پورے نہیں کرنے دئیے جائیں گے۔

سانحہ ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے سے کچھ ہی دیر پہلے آئی جی پنجاب اور ڈی سی او لاہور کی تبدیلی شکوک شبہات کو جنم دیتی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ پولیس والوں کو حکم تھا کہ اپنے مقاصد حاصل کریں

رپورٹ کے مطابق واقعے کے دن صبح 9 سے ساڑھے گیارہ بجے تک صورتحال کنٹرول میں تھی۔ آئی جی نے بتایا کہ انہوں نے 11:30 چارج سنبھالا اور 12 بجے ان کے پاس اس واقعے کی پہلی خبر آئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے  کہ اوپر سے لے کر نیچے تک کسی پولیس افسر نے نہیں بتایا کہ فائرنگ کا حکم کس نے دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹریبونل سے یہ معلومات چھپائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: روزانہ ایک کیلا کھانے سے آپ کن کن موذی بیماریوں سے بچے رہیں گے، حیرت انگیز تحقیق

تھانہ ماڈل ٹاؤن کے ایس ایچ او کو اے سی ماڈل ٹاؤن نے ایک رات پہلے بتا دیا تھا کہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے پر مذاحمت کی جائے گی۔ اس اجلاس میں شامل تمام لوگوں کو بیرئیرز کے حوالے سے لاہور ہائیکورٹ کے 2011ء کے احکامات کا علم تھا۔

شہباز شریف نے بیان حلفی میں کہا کہ انہیں منہاج القران کے واقعے کا علم ٹی وی کے ذریعے ہوا۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے سیکرٹری سے تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ کہ رانا ثناء اللہ کے حکم پر ادارے کے باہر سے تجاوزات کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ڈھائی سال تک سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ پر محض پروپیگنڈا کیا گیا، راولپنڈی میں بیٹھا شیطان کچھ کا کچھ کہتا رہا کہ یہ ہوجائے گا یا وہ ہوجائے گا لیکن کچھ نہ ہوا

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس رپورٹ میں کسی حکومتی شخصیت کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، طاہر القادری فرماتے ہیں کہ سانحہ کے ذمہ داروں کو سزا دی جائے یہ بتایا جائے کہ کارکنوں کو پولیس پر حملہ آور ہونے کے لیے کس نے کہا؟

یہ بھی پڑھیں: جب مولانا خادم رضوی سے پوچھا گیا کہ ان کی ذریعہ آمدنی کیا ہے تو انہوں نے جیب سے کتنی بڑی رقم نکال کر دکھا ئی

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ہمارے 14 کارکنان کو شہید جب کہ 90 افراد کو گولیاں ماردی گئیں لیکن سپریم کورٹ نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔ رپورٹ کی کاپی ملنے کے بعد جائزہ لیں گے اور حتمی لائحہ عمل طے کرینگے ،شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء اور کارکنان پرامن طریقے سے آج 6 دسمبر کو سول سیکرٹریٹ جائیں گے اور رپورٹ کی مصدقہ کاپی مانگیں گے ،ہمارا احتجاج پرامن ہو گا ،میرا کنٹینر بھی تیار ہے، رپورٹ میں سے کچھ ڈیلیٹ کرنے والے خود ڈیلیٹ ہو جائینگے، جو کہتے ہیں عدالتی فیصلوں سے قیادت نہیں بدلتی انہیں شرم آنی چاہیے، لاشیں گرانے اور انسانیت کا خون بہانے والی نام نہاد قیادت اب ہر حال میں کیفر کردار کو پہنچے گی۔ سربراہ عوامی تحریک نے ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف نے کہا تھا کہ انگلی بھی اٹھی تو مستعفی ہو جاؤں گا ۔یہ سارے بیانات ریکارڈ پر ہیں، انہوں نے کہا کہ نواز شریف سانحہ ماڈل ٹاؤن کی منصوبہ بندی شامل ہیں۔ ان کے بغیر اتنا بڑا اقدام نہیں ہو سکتا۔

یہ بھی پڑھیں: پھل ‘کیلا’ اصل میں کیلا نہیں بلکہ یہ کونسا پھل ہے جو اپنی شکل تبدیل کرکے کیلا بن گیا؟

سینئر صحافی جاوید چوہدری کا اس رپورٹ کے بارے میں  کہنا ہے کہ اس رپورٹ نے بھی بدقسمتی سے کنفیوژن میں اضافہ کر دیا ہے‘ یہ کمیشن تین سوالوں کے جواب کیلئے بنایا گیا تھا‘ فائرنگ کس کی طرف سے شروع ہوئی‘ فائرنگ کا آرڈر کس نے دیا تھا اور یہ آپریشن کس کے حکم پر کیا گیا ۔۔لیکن رپورٹ میں ۔۔ان تینوں سوالوں کا کوئی جواب موجود نہیں‘ جسٹس باقر نجفی نے 132 صفحات میں کسی شخص کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا‘ جج صاحب نے مجرم کا فیصلہ رپورٹ کے قارئین پر چھوڑ دیا‘ اگر فیصلہ قارئین نے ہی کرنا ہے تو پھر ۔۔اس رپورٹ ۔۔اس کمیشن کی کیا ضرورت تھی

پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے رہنما قاضی شفیق کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی رپورٹ پنجاب حکومت کا بیڑا غرق کرنے کیلئے کافی ہے، کیونکہ رپورٹ میں ملوث ملزمان کے چہرے بے نقاب ہوئے ہیں مگر رپورٹ میں موجود تاریخ کی غلطی نے پھر ایک بڑا سوال اٹھا دیا ہے۔

Comment

About Us

pakistaninfopoint.com covers Latest Breaking News, Pakistan News, World News, Health News, Available Jobs Lists, students relating infomations and different kind of information about pakistan. pakistaninfopoint.com also cover Latest Technology Updates, Dubai and Saudi Arabia News.

© 2017 - Pakistan Info Point